Justice for Zainab

Justice for Zainab – Raise your voice

Justice for Zainab – Raise your voice

Justice for Zainab - Raise your voice

“کیسےدورجہالت میں جی رہےہیں ہم “اقبال”
آدمؑ کابیٹاخوش ہوتاہےحواؑکی بیٹی کوبےنقاب دیکھ کر”
قصور کےمحمد امین انصاری صاحب کی ننھی بیٹی 7 سالہ زینب کو نامعلوم افراد نے درندگی کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سلا دیا گیا۔7سالہ زینب کو 4 روز قبل گھر کے باہر سے اغواء کیا گیا تھا اور زیادتی کے بعد گلا دباکر قتل کردیا گیا آج چار روز کے بعد لاش گندگی کے ڈھیر سے برآمد ہوئی اطلاعات کے مطابق بچی کے والدین اغواء کے کچھ روز قبل ہی عمرہ کہ سعادت حاصل کرنے کے لیے گئے ہیں مگر درندوں نے انکی بچی کو اغواء کرکے مار ڈالا۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اُس علاقے میں یہ گیارواں واقعہ ہے ہمارے معاشرے میں روز کا معمول بن گیا ہے ۔
جس ملک میں بھی ایسے واقعات رونما ھوں تو اس میں پہلی غلطی اسی ملک کی حکومت کی ھوتی ھے اس لیے کہ وہ مجرم کو اس جرم کی سزا نہیں دیتی جسکی وجہ سے پھر دوبارہ ایسے واقعات ھوتے ھیں اور دوسری غلطی اس بے بس عوام کی ھے اس لیےکہ جب انکو پتہ ھے کہ یہ حکمران ھمارے لیے کچھ نہیں کرسکتے تو اسکو ووٹ دینے کی بجائے جوتے لگائے جائیں تاکہ آئندہ آنے والے حاکم کو پتہ چلے انڈیا والے سوچتے ھیں کہ پاکستان اسلامی ملک ھے اس میں امن اور مسلمانوں کا تحفظ ھوتاھوگا جب ایسے واقعات دیکھتے ھیں تو حاکم انسانوں کی شکل میں درندے نظر آتے ھیں۔
آج تک ملک پاکستان میں شائدہی کوئی ایساواقعہ ہوجس کےمجرموں کو ان کےانجام تک پہنچایاگیاہوورن​ہ عام طورپرزیادتی کاشکارہونےوالی معصوم بہنیں بروقت انصاف نہ ملنےپریاتوخودکش​ی کرلیتی ہیں یااس ننھی پری “زینب” کی طرع زیادتی کرنےکےبعدقتل کرکےسرعام پھینک دیاجاتاہےاورہم بےحس عوام کو یہ واضح اوردوٹوک لفظوں میں پیغام دیاجاتاہےکہ تم واقعی ہی بےحس ہواوراس طرع بےحسی اورغفلت کی نیندسوتےرہنا۔
ایسے کیس سیپشل کرائم برانچ کو دیئے جائیں اور عدلیہ پارلیمنٹ کو حکم دے اس پر قانون سازی کی جاۓ اور ایسے مجرمان کو کڑی سے کڑی سزا دی جاۓ تاکہ آئندہ کسی کے دل میں ایسا شیطانی خیال بھی نہ آۓ۔
لیکن عمومی طورپردیکھنےمیں آیاہےکہ ایسےواقعات کےپیچےعوام کی ہی ووٹوں سے منتخب ہونےوالےدوٹکےکے​ایم پی اے یاایم این اےکاہاتھ نکل آتاہے۔
پاکستان میں ہرچیزکی قانون سازی ہےلیکن بدقسمتی سےصرف غریبوں کےلیےہی قانون ہوتاہےجبکہ امیراسی قانون کواپنی جیب میں رکھتاہے۔
یار ہم کس معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ استاد سے شاگرد محفوظ نہیں، ڈاکٹر سے نرس، مدرسے کے مہتم سے طالبعلم محفوظ نہیں، باس سے ملازمہ محفوظ نہیں۔۔۔۔۔ ایسے کنجرانہ ماحول میں رہ کر ہم مغربی بے حیائی کو کیا دوش دیں۔۔۔۔؟؟ ایسے بدقماشوں کو آگ میں بھون کر بوٹیاں کتوں کو کھلائی جائیں، یا عوامی اجتماع میں سنگسار کیا جائے۔۔۔۔۔ مگر یہاں کرے تو کون کرے۔۔۔۔ کاش زینب انصاری، زینب زرداری یا زینب نواز ہوتی، یا کسی رشوت خور دو ٹکے کے ایس ایچ او کی بیٹی ہوتی، پھر دیکھا جاتا کہ ملزمان کے کیئےکی سزا رشتہ دار کے چالیس گھرانے بھی سزا پاتے تھے کہ نہیں، مگر زینب تو اس روندے ہوئے چمن کی ایک مسلی ہوئی کلی ہے، جس گلشن کو خود باغباں آگ لگائے رکھتے ہیں۔۔۔۔۔
معاف کرنا زینب۔۔۔۔!! ??
اب اٹھنا ہوگا…..ساری قوم کو………اسمبلیوں سے باہر پھینکنا چاہئے ان خبیث نام نہادحکمرانوں کو….
ورنہ یہ سب تو ہر روز ہوگا……..ظلم سہنا ہوگا یا ظالموں کو گریبان سے پکڑنا ہوگا۔
“نہ سمجھوگےتومٹ جاؤگےاےجہاں والوں
داستاں تک نہ ہوگی تمہاری داستانوں میں”
(فیصل شہزادساگر)

Leave a Reply